August 21, 2018

علم فقہ آغازوارتقاء

علم فقہ آغازوارتقاء

 اسلام نام ہےخودی کو سپرد کرنے کا،اپنے آپ کو حوالہ کرنے کا،پس جو شخص دائرہ اسلام میں دا خل ہوتا ہے تو خودی کو رب ذوالجلال کے سپرد کردیتا ہے،اور اس کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دیتا ہے،اور اس کے پیش نظر خداوند قدوس کا یہ حکم ہوتا ہے جیساکہ ارشاد ہے:یا ایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ (البقرۃ:208) اے ایمان والو:اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاوٗ،  اسلام میں پوری طرح داخل ہونے کا مطلب ہی کلمہ توحید کے ساتھ ساتھ اللہ تعالےاور  اوررسول اکرمﷺکے بتائے ہوئے احکا مات و قوانین،قواعد وضوابط پر عمل آوری سے کمال اسلام سے بندہٗ موٗمن بہرور ہوسکتا ہے،اور اسی کو اسلامی قوانین سے تعبیر کرتے ہیں،حقیقت تو یہ ہیکہ یہی قانون دائمی وابدی ہے،اسی کو اپنانے میں ساری انسانیت کی نجات و فلاح ہے،کیوںکہ اللہ اور رسول اللہﷺ کے بتا ےٗ ہوئے قانون میں امیر و غریب،مرد و عورت،رنگ و نسل،کالی و گورےاور زبان و وطن میں کسے قسم کی تفریق و امتیاز نہیں اور نہ ہی ایک دوسرے پر فوتیت حاصل ہے،کیوںکہ ان میں اللہ رب العالمین ہے،کیوںکہ وہ انسان کے جذبات و احساسات،خواہشات و ضروریات،نفع و نقصان پر علیم و خبیر بھی ہےاور عادل و منصف بھی ہے۔

اللہ جو خالق کائنات ہے اس نے انسان کو قرآن سکھایا،بیان کے زیورسے آراستہ کیا،ایک امتیازی صفت سے متصف کیا جو کسی دوسری مخلوق میں وہ نہیں پائی جاتی ہے،وہ صفت فہم و ادراک ہے، اسی کا دوسرا نام فقہ ہے، انسانی کائنات میں یہی ایک ایسی صفت ہے جو انسانی مخلوق کو بام عروج تک پہنچاتی ہے،اور اسی کے ذریعہ بندہٗ موٗمن خدا اور رسول خدا ﷺ کے بنائے ہوئے قانون یعنی قانون اسلامی کی روشنی میں رونما ہونے والے نت نئے مسائل کا حل دریافت کر لیا ہے،جو دور رسالت میں موجو د نہ تھے،اور نہ ان کا اس زمانہ میں تصرر تک کیا جا سکتا تھا،لیکن جب اللہ نے اپنے مخصوص بندوں کا انشراح صدر کیا،جنہیں فقھاءکے نام سے تعبیر کرتے ہیں،اور انہیں اس عظیم خدمت کا موقعہ عنایت کیا،اور وہ اسلامی شریعت کے جامع ترین قانون کو تھام لیا،جو ہر قدم پرانسانی مخلوق کی رہنائی کرتا ہے،اور اسے روشنی دکھاتا ہےپس علم فقہ آغاز و ارتقاء کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

فقہ کے لغوی معنی:کسی بات کو جاننے اور سمجھنے کے ہیں۔

اصطلاحی معنی:إمام أعظم ابوحنیفہ رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا: ھو معرفۃ النفس ما لھا وما علیھا ہے،

(التوضیح،جلد:1،صفہ:10)۔

فقہ نام ہے تفصیلی دلائل سے شرعی عملی احکام کی معرفت حاصل کرنا ہے،علم فقہ کا آغازو ارتقاء مختلف مراحل میں طئے پا یا ہے،اور اس نے بتدریج اپنے ارتقاء کاسفر طئے کیا ہے،اور اس کو مختلف ادوار میں منقسم کیا گیا ہے،جن میں دور رسالت،دور صحابہ و دور تابعین و تبع تابعین ہیں۔

دور رسول اکرامﷺ :قرآن مجید ایک ایسی آسمانی کتاب ہے کہ جس میں اہل حق نے مخلوق کی تمام موجودہ اور آنے والے مسائل اور ضروریات و حوائج کی وضاحت بھی کی گئی ہے،اور قواعد کے کلیات و جزئیات کی بھی وضاحت کی گئی ہے،اسی کے ذریعہ صالح مجتہدین احکام شرعیہ کا استنباط و استخراج کرتے ہیں،اور امت کے تمام مسائل کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں کرتے ہیں ،اگر کوئی مجتہد کتاب اللہ میں اپنے مسائل کا حل نہ پائےتو وہ سنت رسول اللہﷺ کی طرف رجوع ہوتا ہے،جیساکہ ارشاد ربانی ہےوما آتاکم الرسول فخذوہ تو وہ مجتہد اپنا اجتہاد شرعی جو کتاب اللہ میں کرتا تھا سنت نبوی ﷺمیں کرتا ہے اور اپنے مسائل کا حل دریا فت کرلیتا ہے وہ اس لئے کہ قرآن مجید اور اور حدیث نبوی ﷺ میں تمام ضروریات و حوائج کے اصول و ضوابط موجو د ہیں۔لہذا فقیہ کو اب صرف ایک عمل کی ہی ضرورت ہے اور وہ عمل تفسیر اور شرح ہے اگر ان دونوں کو مجتہد اپنا لیتا ہے تو وہ اپنی مراد کو پا لیتا ہےکیوںکہ اس کو کتاب و سنت میں  ہی بڑا ذخیرہ ملتا ہےنہ اسے ایجاد کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے اور نہ ہی اسی دربار تصنیف کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی حاجت ہوتی ہے۔

فقہ اسلام کا ہی ایک جزء ہےوہ کوئی نئی اور اجنبی اصطلاح نیں ہے کیوںکہ تفقہ فی الدین مؤمن کی امتیا زات میں سے ایک عظیم امتیا زہے۔فقہ کا سلسلہ قرن اول سے ہی چلتا آرہا ہےکیوںکہ اللہ نے اپنے رسولﷺ پر جملہ 23 برس میں قرآن کریم کو نازل فرمایا اس عرصہ میں جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو نبی اکرمﷺاپنے اجتہاد کے ذریعہ مسائل میں غور س فکر کرکے اپنے اجتہاد کے ذریعہ حکم صادر فرماتے۔اور مسائل میں غور و فکر کا نام ہی تو فقہ ہے،تر دور رسالت میں ہی فقہ کی سنگ بنیاد پڑ چکی تھی۔

اسلام میں رونما ہونے والے نت نئے مسائل میں سب سے پہلے اجتہاد کر نے والی شخصیت تاجدار مدینہ محمدﷺ ہے آپ نے کلام الہی میں بھی اجتہاد کیااور مجمل احکامات کو مفصل بیان کیا۔اللہ نے صراحۃ یہ فرمایا کہ نا پاک چیزیں حرام ہےجو اپنی اس صفت میں مشتبہ حال ہیں تو نبی اکرم ﷺ اپنے اجتہاد کے بیان فرمایا کہ :ہر درندہ جانور اور پنجہ دار حرام ہے۔

عن وھببن ابی خالد قال حدثتنی ام حبیبۃ بنت العرباض بن ساریۃ ابیھما ان رسول اللہ ﷺ نھی یوم خیبر عن کل ذی ناب من السباع و عن کل ذی مخلب من الطیر۔(جامع الترمذی،ابواب الصید،ج1ص272)۔

بعض اوقات نبی اکرامﷺ نے حقوق اللہ پر قیاس کرکے حقوق العباد پر حکم دیا،اور اس میں قیا س سے کام لیا اور اس میں صحابہ کرام کو قیاس و اجتہاد کرنے کی طرف اشارہ بھی کیا جس کی تفصیل حدیث میں ہے۔

عن ابن عباسؓ: ان امرأۃ من جھینۃ جاءت الی النبی ﷺ فقالت:ان امی نذرت ان تحج فلم تحج حتی ماتت افأحج عنھا قال حجی عنھا ارایت لو کان علی أمک دین اکنت قاضیہ اقضوا اللہ فاللہ احق با لوفاء۔      (صحیح البخاری،ج1،ص250)

ترجمہ: سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے قبیلہ جھہنۃ کی ایک عورت بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوکر عرض گذار ہوئی کہ:میری والدہ حج بیت اللہ کی نذر مانی تھی لیکن وہ حج بیت اللہ ادا

کئے بغیر ہی وصال کر گئی کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کرسکتی ہوں ؟آپ نے فرمایا : ادا کرلو اگر تیری والدہ پر قرض ہو تو کیا تم اس کو ادا نہ کرتی ؟ لہذا تم اللہ کے احکام کو پورا کرو اللہ ہی وفا کا زیادہ سزاوار ہے۔

نیز اسی طرح نبی اکرمﷺ قیاس و اجتہاد کے متعلق صحابہ کرام ؓ کو قرن اول میں ہی حصول تفقہ بالقیاس پر ابھارتے تھےاور اس میں اپنی رضامندی کا بھی اظہار فرما دیا کرتے جس سے صحابہ آپﷺ کے حکم کی تعمیل کرکے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ میں مسائل پر قیاس کرکے ان کا حل تلاش کرلیتے تھے اوور اپنی منزل مقصود تک رسائی حاصل کر لیتے تھے جیساکہ بخاری شریف  اور ترمذی شریف میں اس کی صراحت آئی ہے۔

عن معاذ ان رسول اللہ ﷺ بعث معاذا الی الیمن فقال کیف تقضی ؟ اقضی بما فی کتاب اللہ تعالی فان لم یکن فی کتاب اللہ قال فبسنۃ رسول اللہ ﷺفان لم یکن فی سنۃ رسول اللہ قال: اجتھد برائی قال الحمد للہ الذی وفق رسول رسول اللہ لما یحب و یرضی۔

(جامع الترمذی،کتاب الاحکام،ج1ص247)

سیدنا معاذ بن جبل ﷺ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ ﷺ معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجا اور فرمایاتم فیصلہ کس طرح کروگے ؟کہا میں فیصلہ کتاب اللہ سے کرونگا،آپ نے کہا اگر وہ کتاب اللہ میں نہ ملے تو کہا : سنت رسول اللہ سے فیصلہ کرونگا،اگر وہ سنت رسول اللہ میں بھی نہ ملے تو کیا کروگے ؟ کہا میری رائے سے اجتھاد کرونگا۔آپ نے فرمایا الحمد للہ ،اللہ نے اپنے رسول کے قاصد کو توفیق دی جس کو وہ محبوب و پسند فرماتے ہیں۔

 

دور صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین: اس دار فانی میں حضور اکرمﷺ جب تک جلوہ افروز تھے صحابہ کرام اپنے مسائل کا حل آپ ﷺ کی رفاقت مبارکہ سے مستفید ہوکر کرلیا کرتے تھے اوریہ معاملہ ایک عرصہ دراز تک چلتا رہا ۔لیکن جب رسول اللہ ﷺ اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور آپ کی وفات کے بعد ملکی فتوحات کے ساتھ ساتھ تمدنی ،تہذیبی اور ثقافتی امور و ضروریات میں بھی وسعت ہوئی، اور ان گردش ایام کی وجہ سے مختلف مقام کے باشندوں،مختلف الذاھب عوام اور مختلف افکار کےقوموں سے ربط ہوا،آپس میں معاملات ہونے لگے،اور اسلامی تعلیمات سے آراستہ ہونے لگے،ان کے سابقہ مذہب اور اسلام ؛عائلی اور ازدواجی مسائل میں اختلاف کے ساتھ ساتھ خرید و فروخت کی اشیاء اور ان کی سابقہ مال و ثروت کی حلت و حرمت کے حکم میں اختلاف ہوا اسی طرح مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا،بعض مسائل توا یسے بھی تھے  جن کے متعلق حکم قرآن و حدیث میں بصراحت موجود نہ تھا۔لہذا صحابہ کرام کے دور میں اجتھاد کی زیادہ ضرورت ہوئی اور وہ اس لئےکہ قرآن مجید میں ہرمسئلہ کی  جزئیات واضح نہیں تھیں،پس صحابہ کرام نے محسوس کیا اور اور خدا تعالی نے ان کے روشن قلوب میں یہ خیال ڈالا کہ مسائل کے حل کے اجتھاد میں قیا س شرعی سے کام لیا جائے،اور انہوں نے بھی قیاس و تفقہ  کے ذریعہ مسائل کے حل کو تلاش کیا جس کے واضح دلائل کتب احادیث میں ملتی ہیں۔

عن ابی جحیفۃ قال قلت لعلی : یا امیرا المؤمنین ھل عندکم من سودائ فی بیضاء لیس فی کتاب اللہ عز وجل لا والذی فلق الحبۃ وبر النسمۃ ما علمتہ الا فھما یعطیہ اللہ اجلا فی القرآن۔

(جامع الترمذی،باب ما جاء لا یقتل مسلم بکا،ج1،ص169)۔

ابو جحیفہ ؓ سے روایت ہے کہا:میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے امیرالمؤمنین کیا آپ کے پاس کچھ ایسا مضمون ہے جو کلام اللہ میں نہ ہو؟ آپ نے جواب دیا :قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو جدا کیا ا ور زندگی بخشی،ہمارے پاس ایسا کچھ نہیں ہے سوائے اس فہم و ادراک کے جس کو اللہ تعالی نے انسان کو قرآن کے متعلق عطا کیا۔

اسی طرح کے کئی اوقات ومقامات میں قیاس شرعی کے ذریعہ مسائل کا استخراج و استنباط کیا ہےجس کی ہمیں کئی مثالیں ملتی ہیں۔

دور تابعین و تبع تابعین:

صدر اسلام میں یہی صورت حال رہی پھر اسلامی مملکت میں وسعت ہوتی گئی اور عرب سے جہالت کا خاتمہ ہوگیا اور حسب سابق میں نئے مسائل سے دوچار ہونے لگے،اس کے متعلق صاحب کشف الظنون لکھتے ہیں کہ:

واقعات اور نت نئے مسائل کا رونما ہوتے جانا جس کی بے انتہاء نہیں ہے کیونکہ یہ دنیا خود فانی  ہےاور دنیا کے انتہاء تک ہی نئے مسائل کا رونما ہونا یقینی ہے،لیکن ان کی کثرت اور ان کا تسلسل اور عدم انقطاع دنیا کے وجود تک ایسا ہے کہ ان کا احاطہ ممکن نہیں اور حقیقت یہ ہیکہ مستقبل پر کسی کو دسترس حاصل نہیں ہے،اسی لئے کسی کو کیا معلوم کب کس طرح کے مسائل سے دوچار ہونا پڑے لہذا زمانے کے ہر دور میں وقوع پذیر ہونے والے ایک ایک مسئلہ کا جزوی حکم پہلے ہی سے معلوم نہیں ہو سکتا اور دوسری طرف یہ بھی حقیقت اپنی جگہ مسلم ہیکہ:انسان کا ہر عمل شرعی حکم کے تاب ہونا چاہئے اور اس کا جو بھی حکم ہوگا بہرحال وہ کسی نہ کسی دلیل سے بندھا ہوا ہوگاجو اس سے مخصوص ہوگی اسی لئے ان مسائل کے چند کلیات بنائے گئے ہیں،جس کا موضوع بندوں کے افعال ہیں،اور اس کا محمول شارع کے احکام ہیں اور وہ علم جو دلائل شرعیہ سے حاصل شدہ ان احکام سے متعلق ہےاسے فقہ کے نام سے موسوم کیا گیا ۔              (کشف الظنون،ج/1،ص/113)۔

اس مایہ ناز علم کی باگ ڈور سنبھالنے والوں میں جس شخصیت کا نام سر فہرست آتا ہے وہ امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابتؒ ہیں،جن کے فقہی مقام کی برتری اور بلندی کوئی نہیں پہنچ سکا اور اس کی گواہی ان کے ہمعصر فقھاء نے دی جن میں خصو ٖصا امام مالکؒ اور امام شافعیؒ جیسے ائمہ ن دی ہے،پھر آپ کے بعد یہ دینی خدمت حضرت مالک بن انس صبحی ؒکے حصہ میں آئی جنہوں نے دوسرے فقھاءکے اصول سے زیادہ احکام میں اہل مدینہ کا لحاظ وہاں نبی کریمﷺ ہونے کی بنا پر کیا،پھر امام مالک کی وفات کے بعد اسی فقہی مذھب کے مقتدی امام شافعیؒ تھے جو عراق کا سفر کئےوہاں انہوں نے امام اعظم ابوحنیفہؒ کا تلامذہ  سے علمی استفادہ کیااور وہ اہل عراق اور اہل حجاز کے دو فقہی مذاھب کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں تغیر و تبدل کے بعد ایک مستقل فقہی مذھب کی بنیاد ڈالی،اس طرح فقہ شافعی پھیلی،پھر ان کے بعد امام احمد بن حنبلؒ ہیں،جن کا شمار محدثین میں ہوتا ہے،اور وہ امام اعظم ابوحنیفہؒ کا تلامذہ  سے علمی استفادہ کیااسی طرح انہوں نے ایک چوتھے فقہی مذھب کو رائج کیا پس اسی طرح انہیں چار ائمہ فقھاءکی تقلید اطراف و اکناف میں ہونے لگی۔

اس کے بعد ائمہ کرام رحمۃاللہ اجمعین نے اپنے فقہی مذاھب کے چند اصول و قواعد بنائے اور اس کے ذریعہ اپنے مذھب اور اسلامی تعلیمات و احکام کی حفاظت کی ہے جو آنے والے سبھوں کے لئے راہ ہدایت و نجات ہے۔علامہ ان خلدونؒ کا بیان ہے:اصول فقہ پر سب سے پہلے امام شافعیؒ نے قلم اٹھا یا ہے اور اپنا مشہور‘‘ الرسالہ’’ قلمبند کیا جس میں امر و نواھی،بیان و نسخ اور علۃ القیاس کے حکم وغیرہ پربحثیں کیں پھر فقھاءحنفیہ نے مبسوط کتابیں تألیف کیں جن میں اصول و فقہ کے قواعد و ضوابط وضاحت و تفصیل کے ساتھ مدون کئے،اور دوسری طرف متکلمین نےبھی  اسی طرح کی کتابیں تصنیف کیں لیکن فقھاءتحریریں فقہ سے زیادہ ربط و استنباط فروع کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی تھیں،کیونکہ انکی کتابوں میں فروعی مسائل کی مثالیں اور ان کے شواھد کی کثرت ہے،اور فقہی مسائل سے صرف نظر کیا اور زیادہ تر عقلی استدلال کی طرف ان کے اپنے طرز بحث و کلام کا تقاضا ہےغرض فقھائے حنفیہ کو فقہی باریکیوں پر دسترس اور مسائل فقھیہ سے اصول فقہ کے قواعد و قوانین اخذ کرنے میں ید طولی حاصل ہے۔

‘‘تاریخ التشریع الاسلامی’’طباعۃ:1357ھ کے مؤلفین علامہ ابن خلدون  کے اس قول پر کہ اصول فقہ کی سب سے پہلی کتاب امام شافعیؒ کی ہے جو ‘‘الرسالہ’’ کے نام سے مشہرر ہے رد و قدح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

ممکن ہےکہ ابن خلدون کا مقصد یہ ہو کہ امام شافعیؒ نے سب سے پہلے ان کا مجموعہ خاص اسی نام ؛اصول فقہ سے لکھا یا ھیکہ اس فن میں علماءکی تالیفات میں سب سے پہلی کتاب جو ہم تک پہنچی وہ امام شافعیؒ کا یہ ‘‘ الرسالۃ’’ ہے،ورنہ امام ابو یوسفؒ اور امام محمد بن حسن الشیبانیؒ کے تذکروں میں یہ صراحت کے ملتی ہے کہ ان حضرات نے اصول فقہ کے باب میں تحریریں چھوڑی ہیں۔  (تیسیر الوصول الی علم الاصول،ص/22)۔

دورما بعد تابعین و تبع تابعین:

تدوین فقہ میں فقھائے احناف کی خدمات: حضرمی اپنی تاریخ تاریخ التشریع ص؛281 پر لکھتے ہیں کہ: امام اعظم ابوحنیفہؒ کے تلامذہ میں سے سب سے پہلے ان کے تلمذ اکبر ابو یوسفؒ (متوفی183ھ) نے کتاب مدون کی جیساکہ اصول و امالی میں کتاب الصلاۃ اور کتاب الزکاۃ،املاء میں اور کتاب الخراج وغیرہاور آپ کے دوسرے مشہور تلمذ رشید محمد بن حسن شیبانیؒ(متوفی189ھ) ہیں،جن کی تصانیف میں الجامع الکبیر، الجامع الصغیر،السیر الکبیر ،السیر الصغیر،کتاب الزیادات یہ کتب‘‘ ظاہرالروایۃ اور اصول’’ کہلاتی ہیں۔اس کے علاوہ اور کتب بھی ہیں اور آپ کے تیسرے شاگرد عزیز حسن بن زیاد لؤلؤی ہیں ان کی تالیفات میں ایک کتاب کتاب المجرد ہے،اور آپ کے چوتھے شاگرد مشہور زفر بن ھذیل(157) ہیں۔

یہ چارائمہ فقہ امام ابوحنیفہؒ کے سب سے زیادہ مشہور تلامذۃ ہیں،اور فقہ حنفی کی اشاعت اور امام ابوحنیفہؒ کے اقوال و اجتھاد اور قیاس کی جمع و تدوین کے باب میں ان چاروں میں سب سے زیادہ حصہ امام محمد بن حسن کا تھا۔

تیسری صدی ھجری کے مشہور مؤلفین فقہ حنفی میں سے ایک تو احمد بن محمدطحاوی مصری(متوفی321ھ)ہیں، انکی تالیفات بھی بکثرت ہیں،جن میں سے ایک تو ‘‘ معانی الآثار‘‘ہے،اور دوسری‘‘مشکل الآثار’’ ہےاور دوسرے احمد بن ابو بکر جصاص ہے(متوفی370ھ)ہیں،ان کی تالیفات میں سے ‘‘احکام القرآن ’’ ہے،

پانچویں صدی ہجری کے مشہورمؤلفین میں سے ایک تو احمد بن محمد قدوری بغدادیؒ ہیں جن کی متعدد تالیفات میں سے ایک ئ‘‘ مختصر القدوری’’ ہے،اور اس صدی کے دوسرے مشہور مؤلف فقہ حنفی محمد بن ابو بکرسرخسیؒ(متوفی483ھ)ہیں،ان کی تالیفات میں سے ایک تو شرح السیرالکبیرہے،جو مبسوط کے نام سے مشہور ہے،جو15 جلدوں پر مشتمل ہے۔

چھٹویں صدی ہجری کے مشہور مؤلفین فقہ حنفی یہ ہیں:

1)ابو بکر بن مسعودکاسانیؒ(متوفی483ھ)ہیں،ان کی تالیفات بکثرت ہیں جن میں سے البدائع شرح تحفۃ الفقھاء ہے۔

2) حسن بن منصور (متوفی592ھ)ہیں، جو قاضی خان کے نام سے مشہور ہے،ان کی تالیفات بکثرت ہیں،جن میں سے فتاوی قاضی خان،شرح الجامع الصغیر،اور شرح الزیادات بھی ہیں۔

3)علی بن ابو بکر فرغانی مرغینانیؒ(متوفی593ھ)ہیں،ان کی کثیر تالیفات میں سے ایک‘‘ الھدایۃ’’ہے،جو کافی مشہور و معروف ہے۔

ساتویں صدی ہجری کے مشہور مؤلفین فقہ حنفی یہ ہیں:

1)افتخار الدین عبد المطلب بن الفضل عباسی(متوفی616ھ)ان کی شرح الجامع الکبیر مشہور ہے،اور یہ حلب میں فقہ حنفی کے مشہررامام سمجھے جاتے ہیں۔

2)محمود بن احمد جلال الدین بخاری العصیدی(متوفی637ھ) ان کی دو تالیفات مشہور ہیں شرح جامع الکبیر اور شرح السیر الکبیر ہے۔

3)بدر الدین محمد بن محمودالکردریؒ(متوفی651ھ)جو خواہر زادہ کے نام سے مشہور ہے۔

آٹھویں صدی ہجری کے مشہورمؤلفین میں ایک تو عبد اللہ بن احمد حافظ الدین نسفیؒ(متوفی710ھ)ہیں،جن کی فقہ میں ایک کتاب‘‘کنز الدقائق’’ مشہورہے،اور اصول میں ‘‘ المنار’’ مشہور ہے،اور دوسرے عثمان بن محمد زیلعیؒ(متوفی743ھ)ہیں جن کی شرح کنزالدقائق مشہور ہے۔

نویں صدی ہجری کے مشہور فقہ حنفی میں سے محمد بن عبد الواحد کمال الدین (متوفی 861)ہے،جو ابن الھمام کے نام سے مشہور ہیں،جن کی متعدد تالیفات میں سے مشہور تالیف‘‘فتح القدیر’’ ہے جو ہدایہ کی شرح ہے،اور دوسری اصول فقہ میں‘‘ التحریر’’ ہے۔

اور دسویں صدی ہجری کے مشہرر مؤلفین فقہ حنفی میں سےایک تو ابراھیم بن محمدحلبیؒ(متوفی956ھ)ہیں،جن کی متعدد تالیفات میں سے ایک کنز الدقائق کی شرح‘‘البحر الرائق’’ ہے اور دوسری ‘‘ الاشباہ و النظائر’’ ہے۔

(تاریخ افکار علوم اسلامی،ح دوم،ص/58۔۔60)۔

گیارھویں صدی ہجری کے مشہور مؤلفین میں سےشیخ احمد بن ابو سعیدہیں،جن کی مشہور تالیفات میں سے ایک‘‘تفسیرات احمدیہ’’ ہے،جو قرآن کریم کی پانچ500 آیات پر مشتمل ہے،اور دوسری نورالانوار شرح المنار ہے،اور آپ ‘‘ملا جیون’’ کے لقب سے مشہور تھے۔

فضیلت علم فقہ :

فن فقہ کی بڑی فضیلت ہے اللہ نے اپنے کلام مجید میں فقہ کی اہمیت بیان کی اور اس میں ترغیب دلائی،اور فقھائے کرام کو ‘‘اولوا الامر’’ کی تعریف اور توصیف سے متصف کیا،اور حدیث پاک میں بھی فقہ کی بڑی فضیلت و اہمیت بیان کی ہے،

عن معاویۃعن النبیﷺقال : من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین۔

(ٓٓصحیح بخاری ج/1،ص؛16،مسلم،ج/2،ص؛123)۔

نبی اکرمﷺ نے فرمایا:اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہےتو اس کو دین میں سمجھ عطا کرتا ہے۔

اسی طرح سلیمان بن مہران اعمشؒ جیسے عظیم المرتبت محدث جنہوں نے اپنی ساری زندگی خدمت حدیث میں لگا دی،ایک موقعہ پر فرمایا:‘‘یا معشر الفقھاء انتم الاطباءو نحن الصیادلۃ’’

اے فقھائے کی جماعت تم طبیب ہو اور محض عطار ہیں۔

(جامع بیان العلم ج۔2،ص31)۔

افسوس صد افسوس کی بات ہے،عصرحاضر میں بہت سے لوگوں نےاتنے عظیم الشان فن کے بارے میں قدر شناسی کا ثبوت دئے ہیں،حالانکہ جس کی تعریف و توصیف خود خدا اور اس کے رسولﷺ کی ہے،اور وہ علم فقہ ہے،وہ اس میں مصروف رہنے کو بھی (نعوذ باللہ)معیوب سمجھتے ہیں،ان کی نا سمجھ پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جاسکتا ہے،اور جس سے بغاوت کا انجام سوائے ناکامی اور نا مرادی کے اور کیا ہوسکتا ہے،!!!!

ایسے ہی لوگوں کیلئے امام ابو الحسن منٖصور بن اسماعیل شافعیؒ کا قول نقل کرنے کو جی چاہتا ہے،جسے علامہ سبکیؒ نے نقل کئے ہیں:

عاب التفقہ قوم لا عقول لھم               ان لایری ضوءھا من لیس ذا بصر

وما علیہ اذا عابوہ من ضرر              ما ضر شمس الضحی وھی طالعۃ