October 21, 2018

انوار رمضان

انوار رمضان

 

اللہ تبا ر ک و تعا لیٰ نے فر مایا شھر رمضا ن الذی انزل فیه القرآن ( سورة البقراٰ) رمضان وہ مہینہ ہے جس  میں قرآن نازل ہوا،اور یہ وہ مہینہ ہے جو رحمتوں اور سعا دتوں سے مالا مال ہو تا ہے اور اپنے قدر دانوں کو رحمتوں اور سعادتوں سے مالا مال کر تا ہے،اُس  کی آمد  رحمتوں کی سوغات ہے،ربّ کے عنا یتو ں کی بر سات ہے،اس مہینے میں مشرق سے مغرب اور جنوب سے شمال تک ایمان کی ایسی دل فر یب ہوا چلتی ہے کہ ہر مؤمن کے مشا م جان کو معطر کر دیتی ہے،اس مہینے میں اللہ تعا لیٰ اعما ل کے ثوا ب کو بڑھا دیتے ہیں ،اللہ کی رحمت عام ہو تی ہے ،جنت کے درواذے کھو ل دئیے جا تے ہیں ،سر کش شیاطین قید کر دئیے جا تے ہیں ،اس میں صدقا ت و خیرات کے چشمے پھو ٹتے ہیں، نیکی اور بھلا ئی کی بارش ہو تی ہے،اس بارش میں مؤمن اپنے گنا ہوں کو دھو لینے کی کو شش کر تا ہے،یہ غم خواری ،مخلوق کےساتھ ہمدردی، خُدا کی رحمت کے سا ئے گریہ و زاری کر نے کا مہینہ ہے،یہ خُدا شنا سی اور خود شناسی کا مہینہ ہے،اس ماہ کی جتنی قدر و عظمت بجا لا ئیں تو کم ہے،لیکن بندہ مؤمن کو چا ہئے کہ اس ماہ مبارک کا ہر لمحہ اللہ کی عبادت اور ریاضت میں لگا یئں،عبا دات کے ذریعےاس کی قدر دانی کریں،اور اللہ تعا لیٰ کے انوار و تجلیات سے بہرور ہو جا یئں ۔

حضرات گرامی! اس ماہ مبارک کی رحمتوں،برکتوں اور سعادتوں کو حاصل کرنے کیلئے چند عبادات کا تذکرہ کیا جاتا ہے،تاکہ تمام مسلمان یہ اور ان کے علاوہ عبادتوں کو بجا لا کر دنیوی اور اخروی نعمتوں سے مالا مال ہوجائیں،کیوںکہ مندرجہ بالا عبادتوں کا رمضان سے خاص تعلق ہے۔

روزہ کی فضیلت:روزہ کی فضیلت و عظمت حدیث پاک میں بڑی جامع اسلوب میں آئی ہے،

عن ابی ھریرۃ ؓان روسول اللہ ﷺقال : الصوم جنۃ فلا یرفث ولا یجھل فان امرأ قاتلہ او شاتمہ فلیقل انی صائم مرتین والذی نفسی بیدہ لخلوف فم الصائم اطیب عند اللہ من ریح المسک یترک طعامہ و شرابہ و شھوتہ من اجلی الصیام لی وانا اجزی بہ والحسنۃ بعشر امثالھا

(صحیح البخاری،ج1،ٖص257)،

ترجمہ: سیدنا ابو ھریرہ ؓ سے روایت ہے،کہا ،رسول اکرمﷺ نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے،تو روزہ دار نہ بُرا کہے اور نہ ہی براعمل کرے،اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے یا اس کو برا کہے تو اس سے کہ دے کہ میں روزہ دار ہوں،اور فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،روزہ دار کے منہ کی خوشبو اللہ کے نزدیک مشک کے خوشبو سے زیادہ معطر ہوتی ہے،اللہ تعالی فرماتا ہےکہ وہ میری خاطر کھانا ،پینا اور شھوت چھوڑ دیتا ہے لھذاروزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ اور جزا دونگا،اور ایک نیکی کا بدلہ دس گنا زیادہ دوں گا۔

نماز تراویح و قیام رمضان کی فضیلت: رمضان میں نماز تراویح پڑھنے والے کے اللہ پچھلے سارے گناہ معاف کر دیتے ہیں،جیسا کہ حدیث پاک میں آیا ہےکہ:

عن ابی ھریرۃ ؓ قال ان رسول اللہ ﷺ قال من قام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ۔

(صحیح البخاری،ج1ص:269)،

ترجمہ: سیدنا ابو ھریرہ ؓ سے روایت ہے،کہا ،رسول اکرم نور مجسم ﷺ نے فرمایا:جو رمضان میں ایمان و احتساب کی حالت میں رات میں عبادت کرے گا تو اللہ اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔

تلاوت قرآ ن پاک کی فضیلت:اسی طرح رمضان مین قرآ ن پاک کے نزول کے بارے میں خود اللہ تعالی نے فرمایاو نیز اس کی تلاوت و  سماعت کی بھی بڑی برکت ہے جیسا کہ احادیث شریفہ میں بھی آیا ہے کہ قرآن مجید کے ایک حرف کو بغیر سمجھے پڑھے بھی تو اللہ اس کو دس نیکیاں دیتا ہے،اور اگر سمجھ کر پڑھے تو بیس نیکیاں دیتا ہے،اس ماہ میں تو نورعلی نور ایک حرف کے بدلہ ستر نیکیاں ملتی ہیں،بس یہ رحمتیں لوٹنے کا مہیںہ ہے،قارئی قرآن کی زندگی میں بھی برکتیں ہوتی ہیں اور آخرت میں بھی،یہاں تک کہ حدیث میں آ یا ہےکہ اس کی قبر پرہزاروں فرشتے آتے ہیں،

عن ابی ھریرۃ ؓ قال لی رسول اللہ ﷺ یا ابا ھریرۃ علم الناس القرآن و تعلمہ فانک ان مت وانت کذالک زارت الملائکۃ کما یزار البیت العتیق۔

(جامع الاحادیث للسیوطی ،ح4269،کنزالعمال:29377)،

ترجمہ: سیدنا ابو ھریرہ ؓ سے روایت ہے،کہا ،رسول اکرم نور مجسم ﷺ نےمجھ سے کہا: لوگوں کو قرآن سکھاؤ اور اس کو پڑھتے رہوونیز اس کی تلاوت کرتے اور سنتے سناتے رہو،اگر تم اسی حال میں انتقال کر جاؤ تو تمہیں ایسا بڑا درجہ ملے گا کہ تمہاری قبر پر فرشتے زیا رت کے لئے اسی طرح آئیں گےجیسے بیت اللہ شریف کی زیا رت کے لئے بے شمار لوگ آتے ہیں۔

نماز فرض با جماعت کی فضیلت:رمضان اور غیر رمضان میں فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی بڑٰی فضیلت آئی ہے،لھذا ہر فرض نماز جماعت سے پڑھنی چاہئے،کیونکہ تنہا نماز پڑھنے والے کے بہ نسبت جماعت سے پڑھنے والے کو ستائیس گنا زیادہ ثواب ملتا ہےجیساکہ حدیث میں آیا ہیکہ:

عن ابن عمر قال ،قال رسول اللہ ﷺ صلاۃ الجماعۃ تفضل علی صلاۃ الرجل وحدہ بسبع و عشرین درجۃ۔    (جامع الترمذی،ج/1،ص/52)،

 نوافل کی فضیلت: رمضان المبارک میں خصوصا نوافل کا اہتمام کرنا چاہئے اس کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے،کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ نوافل کے ذریعہ ہی اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے،اور ہر نفل کی فضیلت اپنی جگہ بر حق ہے،اس میں عمل چھوٹا ہوتا ہے لیکن اجر بڑا ہو تاہے،

صلاۃ الاوابین کو ہی دیکھ لیں کہ حدیث پاک میں آیا ہیکہ:

عن ابی ھریرۃ ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من صلی بعد المغرب ست رکعات لم یتکلم فیما بینھن بسوء عدلن لہ بعبادۃ ثنتی عشرۃ سنۃ۔(جامع الترمذی،ح1،ص:98)،

ترجمہ: سیدنا ابو ھریرہ ؓ سے روایت ہے،کہا ،رسول اکرم ﷺ نے کہا:جو کوئی مغرب کی فرض و سنت کے بعد چھ رکعات اس طرح پڑھے کے درمیان میں کوئی بُری بات نہ کہے تو اللہ ان چھ رکعات کا بدلہ بارہ سال کی عبادت کے ثواب کی شکل میں دیتا ہے،لھذا فرض و سنت نمازوں کے ساتھ نفل نماز یعنی نماز تہجد نماز اشراق،ونماز چاشت کا بھی اہتما م کرے تو ان شاء اللہ بہت فائدہ ہوگا۔

صدقہ و خیرات کی فضیلت : اللہ کے دئے ہوئے مال میں غریبوں کا بھی حق ہوتا ہے،لھذا خود ہی استعمال کرنے کے بجائے غریب روزہ داروں اورو محتاجوں کی مدد ہوجائے تو اس سے مخلوق اور خالق دونوں راضی ہوجائیں گے،اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو کوئی اپنی استطاعت کے موافق روزہ دار کو افطار کرائےگاتو میں اس کو قیامت کے دن حوض کوثر سے پانی پلاؤں گا پھر وہ کبھی پیا سا نہ ہوگا،صدقہ اللہ کی رضا کے حصول اور غضب الھی کے دفاع اور اچھی موت کا ذریعہ ہے،حدیث میں وارد ہیکہ:عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ ﷺ ان الصدقۃ لتطفئی غضب الرب،و تدفع میتۃ السوء۔   (جامع الترمذی،ج1،ص:144)،

ذکر اللہ کی فضیلت:بندۂ مؤمن روزہ کی حالت میں اپنی خالی اوقات کو ضائع نہیں کرنا چاہئے،بلکہ اللہ کےذکر سے زبان کو تر رکھنا چاہئے،اسکی دنیا و آخرت میں بڑی اہمیت و فضیلت ہوتی ہے،

عن ابی ھریرۃ ؓ قال قال النبی ﷺ کلمتان حبیبتان الی الرحمن،خفیفتان علی اللسان،ثقیلتان فی المیزان ،سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔      (صحیح البخاری،ج2،ص:1129)،

ترجمہ: سیدنا ابو ھریرہ ؓ سے روایت ہے،کہا ،رسول اکرم ﷺ نے کہا :دو کلمے ایسے ہیں جو خدائے رحمن کے پاس پسندیدہ ہیں،زبان پر آسان ہیں،میزان(ترازو) پروزنی ہے،وہ دو کلمے یہ ہیں:             سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم

درود شریف کی فضیلت:ذکر اللہ کے بعد ذکر رسول اللہ ﷺ کی بڑی فضیلت ہے کیونکہ خود اللہ نے قرآن پاک میں درود وسلام پڑھنے کا حکم فرمایا ہے،اس کے پڑھنے سے دنیا کی مصیبتیں دور ہوتی ہیں،اور آخرت کی رحمتیں حاصل ہوتی ہیں،سبحان اللہ !!

اس کا ثواب تو عام دنوں میں دس گنا زیادو ہوتا ہے الحمد للہ !! رمضان المبارک میں تو ستر(70) گنا زیادہ ہوجاتا ہے،اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حدیث شریف میں منقول ہے کہ:

عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ من صلی علی صلاۃ واحدۃ صلی اللہ علیہ عشرصلوات،وحطت عنہ عشر خطیا ت،ورفعت لہ عشر درجات۔   (مشکاۃ المصابیح،ج/1،ص/86)،

ترجمہ: حضرت انسؓ سے روایت ہے کہا:رسول اکرمﷺ نے فرمایا،جو مجھ پرایک مرتبہ درود پاک پڑھتا ہے تو اللہ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے،اور اس کے دس گناہ میٹ دئے جاتے ہیں اور اس کے دس درجات بلند کردئے جاتے ہیں۔

اعتکاف کی فضیلت:رمضان المبارک میں ایک اہم عبادت اعتکاف ہے،جس کو رسول اکرمﷺ رمضان کے آخری عشرہ(آخری دس دن) میں پابندی سے اعتکاف کیاکرتے جیسا کہ حدیث میں آیا ہیکہ:عن عبد اللہ ابن عمر قال کان رسول اللہ ﷺ یعتکف العشر الاواخر من رمضان۔

(صحیح البخاری،ج1،ص:271)،

مرد حضرات مسجد میں اور عورتیں اپنے گھر کے کسی مخصوص کمرہ میں اعتکاف کر لیں تو بہت ساری ترکتوں کا نزول ہوگا،اگر دس دن نہ ہو سکے توایک دن تو بھی اعتکاف کرلیا کریں کیونکہ ایک دن کے اعتکاف کی بھی بڑی فضیلت آئی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا کے لئے ایک دن کا بھی اعتکاف رکھتا ہے تو اللہ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقیں حائل کردیتا ہے جن کی مسافت اور دوری آسمان و زمین کے فاصلے سے بھی زیادہ ہوتی ہےـ     (کنزالعمال،ج/1)،

شب قدر کی فضیلت:رمضان میں ایک مخصوص و اہم شب ،شب قدر ہےاور اس رات کی بڑی فضیلت قرآن و حدیث میں آئی ہے،اوراس رات میں عبادت کرنا ہزار راتوں سے بھی زیادہ عبادت کرنے کے برابر ہے لھذا جو اس رات میں عبادت کرےگا تو ہزار راتوں سے زیادہ عبادت کرنے کا ثواب پائے گا،(القرآن،سورۃالقدر)،

اسی طرح حدیث میں آیا ہیکہ :

عن ابی ھریرۃ عن النبی ﷺ قال من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ و من قام لیلۃ القدرایمانا واحتسابا غفر لہ ماتقدم من ذنبہ۔(صحیح البخاری،ج/1،ص/270)،

ترجمہ: سیدنا ابو ھریرہ ؓ سے روایت ہے،کہا ،رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:جو ماہ رمضان کا روزہ ایمان و احتساب کی حالت میں رکھے گا تواس کے پچھلے ساری گناہ معاف کردئے جاتےہیں،اور جو شب قدرمیں ایمان و احتساب کی حالت میں عبادت کرتا ہےاس کے پچھلے سارے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔

شب عید الفطر کی فضیلت :عید کی رات کو ‘‘ لیلۃ الجائزۃ ’’ کہتے ہیں،یعنی انعام کی رات بھی کہتے ہیں،اس رات میں بندۂ مؤمن کو فضول کاموں سے بچنا چاہئے،اس انعام والی رات میں اللہ کی عبادت میں لگے رہنا چاہئے،جس کا بدلہ اللہ جنت کی شکل میں دیتا ہے۔

عن معاذ بن جبل قال قال  رسول اللہ ﷺ من احیا الیالی الخمس وجبت لہ الجنۃ لیلۃ الترویۃ،لیلۃ عرفۃ،ولیلۃ النحر،و لیلۃالفطر،ولیلۃالنصف من شعبان۔(الترٖغیب،ج/2،ص/152)،

سیدنا معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہا رسول اکرمﷺ نے فرمایا:جو کوئی ان پانچ راتوں میں عبادت کرتا ہے تو اس کیلئے جنت واجب ہوتی ہے،وہ پانچ راتیں یہ ہیں،ترویہ کی رات(آٹھویں ذوالحجہ کی رات)،عرفہ کی رات(نویں ذوالحجہ کی رات)،عید الاضحی کی رات ،عید الفطر کی رات اور پندرھویں شعبان کی رات۔

آخر میں تمام قارئین سے گذارش ہیکہ اس مضمون میں لکھے گئے الفاظ کے ذریعہ استفادہ کرکے اس احقر کے والدین،اس کے اور اس کے اہل خانہ کے حق میں دنیا میں عزت ،دین میں برکت،دونوں عالم کی سعادت،اور آخرت میں رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کے لئے دعاءفرمائیں۔

آمین بجاہ سید المرسلین شفیع المذنبین والحمد للہ رب العالمین۔