August 21, 2018

میلاد النبیﷺ حقائق واعمال

میلاد النبیﷺ حقائق واعمال

 

 

اللہ تعالی نے انسان کو ان گنت نعمتوں سے نوا زا ہے،اور بے شمار سعادتوں سے سر فراز فرمایا ہے،جب بندہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر خوشی و مسرت کا اظہار کرتا ہے،تو اسے ‘‘شکرانۂ نعمت ‘‘اور ان پر شکوہ و شکایت کا اظہار کرتا ہےتو اسے ‘‘کفران نعمت’’ کہتے ہیں،لیکن شکر اللہ کے دربار عالیہ میں پسندیدہ عبادت ہے،اور کفران نعمت ایک بہت ہی پسندیدہ عمل ہے،پس جب ہم نعمتوں پر نظر اشتیاق ڈالیں تو رزق بھی ایک نعمت ہے،صحت و تندرستی بھی ایک نعمت ہے،مصیبتوں سے نجات اور مشکلوں سے چھٹکارہ بھی نعمت ہے،اسی طرح جب نصاری پر آسمان سے رزق اترا توبطور شکرانۂ نعمت ،اظہار فرحت و اعمال مسرت کیلئےوہ دن ان کیلئے عید کا دن ہوا،اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کو فرعون اور اس کی لشکر سے نجات ملی تو شکرانۂ نعمت کیلئے یھودیوں نے یوم عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کیا،اورجب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام کی اداؤوں کو جو اللہ کی آزمائش میں پورے اترنے میں ممد و معاون ثابت ہوئے،بطورشکر مؤمنوں کو عید الاضحی اور اس میں کئے جانے والے اعمال کا حکم دیا گیا،بہرحال اللہ نے اپنے رسولوں اور مقرب بندوں کے اعمال و احوال کی یاد کو بطور نعمت ‘‘خوشی و شادمانی’’ کی تعلیم دی تو پھر اس عظیم نعمت کا کیا عالم ہوگا،جس کے صدقہ میں عالم کی ہر شئی عالم عدم سے منصۂ وجود پر لائی گئی،جن کی شان میں بارگاہ خدا وندی سے‘‘ لولاک لما خلقت الافلاک’’  کےالفاظ نازل ہوئے،شریعت مطہرہ کا ہرحکم آپ ہی کے طفیل آسان کیا گیا،اور آپ کی امت کو ‘‘ خیر امت’’(بہترین امت) کے لقب سے ملقب کیا گیا،تو ہم تمام امتیوں پرجو‘‘لا الہ الا للہ محمد رسول اللہ ’’ پڑھتے ہیں،سید المرسلین،خاتم النبیین حضرت محمدﷺکی ولادت با سعادت کی خوشیاں مناناعلامت ایمان ہی نہیں‘‘ عین ایمان’’ ہے،جو ہم تمام امتیوں کے لئے نعمت عظمیٰ (سب سے بڑی نعمت) ہے۔

حقائق عید میلاد النبیﷺ :

اللہ کی سنت : شمس الضحی،بدرالدجی،نورالھدیﷺکی خوشی منانے کا حکم تو خود پرور دگارعالم نے فرمایا:قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذالک فلیفرحواھو خیر مما یجمعون (سورہ یونس : آیت:58) ترجمہ:ائے حبیبﷺ فرمادیجئے کہ انھیں اللہ کی رحمت اور فضل پر ہی خوشیاں منانا ہےاور یہ خوشی(عیدمیلاد) ہر جمع کی ہوئی چیز سے بہترہے،اوراس آیت سے رحمت اورفضل سے مراد‘‘ذات مصطفیﷺ’’ ہے،ان دولفظوں کی تفسیر دودوسری آیات شریفہ کرتی ہیں اوروہ یہ ہیں:ولولا فضل اللہ علیکم ورحمته لا تبعتم الشیطن۔۔وما ارسلناک الا رحمة للعالمین تو اس تفسیر سے ثابت ہوا کہ عید میلاد منانا اللہ کی سنت ہے۔

رسول اللہ کی سنت: ذات مصطفی ﷺتمام مؤمنوں کیلئے نعمت عظمیٰ ہوئی تو تمام امت کو اس نعمت کے شکرانہ میں مصروف و مشغول ہوجاناچاہئے،اوروہ عمل جس میں مشغول ہومندوب ہو یا مستحب مگروہ عمل بارگاہ الھی میں مقبول بھی ہوجاتا ہےاورمحبوب بھی جیساکہ اس موقعہ پراظہارخوشی کی راہنمائی بذریعہ خود سرورانبیاءﷺ نے فرمائی اور اس کی ترغیب بھی دی ہے: عن ابی قتادۃ الانصاری:ان رسول اللہ ﷺسئل اعن صوم یوم الاثنین قال ذاک یوم ولدت ویوم بعثت وانزل علی فیه۔

(صحیح مسلم،ج/2،ص819)،

ترجمہ:حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا،رسول اکرمﷺ سے پیر کے دن کے روزہ کے بارے میں سوال کیا گیاتو آپﷺنے فرمایا :میں پیر کے دن اس لئے روزہ رکھتا ہوں کیونکہ اس دن ہی میری ولادت ہوئی،اسی دن بعثت ہوئی اور اسی دن مجھ پر قرآن کریم نازل ہوا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی سنت :

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہا: کان اھل خیبریصومون یوم عاشوراء یتخذونه عیدا ویلبسن نسائھم فیہ حلیھم وشارتھم فقال رسول اللہ ﷺفصوموہ انتم ۔

(صحیح المسلم،ج/2،ص/796)،

ترجمہ:اہل خیبر عاشورا کے دن روزہ رکھا کرتے اور اس دن کو عید کے دن کے طورپرمناتے اور ان کی عورتیں خوش پوش و جمیل لباس پہنتی تھیں پس رسول اکرمﷺ نے صحابہ کو بھی حکم دیا کہ تم لوگ بھی اس دن روزہ رکھو۔

عزیزان ملت اسلامیہ:اس حدیث شریف کی درایت و نکات کیلئے حضرت شیخ الاسلام  حافظ العصر ابو الفضل ابن حجر العسقلانیؒ کا قول نقل کیا جاتا ہےکہ انھوں نے کہا:فقالوا:ھو یوم اغراق اللہ فیہ فرعون ونجی موسیٰ علیہ السلام فنحن نصومونہ شکرا للہ تعالی ھو یوم اغراق اللہ فیہ فرعون ونجی موسیٰ علیہ السلام فنحن نصومہ شکرا للہ تعالی فیستفادمنہ فعل الشکرللہ تعالی علی ما من بہ فی یوم معین من اسداءنعمۃ او دفع نقمۃ ویعادذالک فی نظیر ذالک الیوم من کل سنۃ والشکر للہ تعالی یحصل بأنواع العبادات کالسجود و الصیام والصدقۃ التلاوۃ وای نعمۃ اعظم من النعمۃ ببروزھٰذا النبیﷺھو نبی الرحمۃ فی ذالک الیوم۔(حسن المقصد فی عمل المولدللامام السیوطی ص63)،ترجمہ: اہل خیبر کے ہھودیوں سے یوم عاشورا کے بارے میں پوچھا گیا توکہا:اس دن اللہ نے فرعون کو غرق کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو نجات عطا کی ہم اس دن بطور شکرالھی روزہ رکھتے ہیں(اسکی تشریح میں شیخ الاسلام ؒ فرماتے ہیں کہ) اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ کسی مخصوص دن اللہ کی نعمت کے حصول ہونے اور مصیبت کے ٹلنے پر اللہ کا شکر بجا لانا اور ہر سال اسی دن شکر کی صورت میں خوشی کا اظہا رکرنابھی ثابت ہےاور شکر خداوندی نماوں،روزوں،تلاوۃقرآن مجید وغیرہ سے بھی کیا جا سکتاہےاور ہم امتیوں کیلئے نبی رحمۃ للعالمین،شفیع المذنیبینﷺ کی ولادت با سعادت سے بڑھ کر اللہ کی نعمتوں میں سے کونسی نعمت اعلی و بہتر ہو سکتی ہے،اس حدیث پاک اور اس کی تشریح سے یہ ثابت ہواکہ: مصیبت سے نجات بھی ایک نعمت ہے،اور شکرانۂ نعمت کی اس تعلیم میں صحابہ کرام کی خاموشی بھی اس بات کا اقرار کرتی ہیکہ اس مختصر سی نعمت کا اتنا اہتمام ہوتوجس ذات کو صحابۂ کرام نعمت عظمیٰ سمجھتے ہیں توآپکی ولادت با سعادت کے دن فرط مسرت و اظہار شکر توبدرجۂ اولی ہونا چاہئے۔

اعمال عید میلاد النبیﷺ:

محبوب دو جہاں ﷺ کا تذکرہ:نبی اکرمﷺ کا تذکرہ کرنا اعمال عید میلاد النبیﷺ میں سے ہے،آپ کا تذکرہ اجتماعی طور پر بھی ہو اور انفرادی طور پر بھی،نثری طور پر جیسے مجالس خطابات یا نظمی طورپرجیسے مجالس نعت شریف اور قصائد وغیرہ کا انعقاد کرنا باعث سعادت اور افتخار ہے،اور آپ کی سیرت طیبہ کا بنظرعمیق مطالعہ کرناچاہئے اور نبی اکرمﷺ کی ہر نعمت پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

درود و سلام کی محافل کا انعقاد: نبی اکرمﷺ کی محبت کا تقاضا ہی یہ ہیکہ:ہر لمحہ اپنے محبوب پر درود وسلام  پیش کریں،اورولادت با سعادت کے دن یہ عمل تو کثرت سے کرناچاہئے،کیونکہ درود وسلام پڑھنے والے کو دنیا و عقبیٰ میں بہت فائدے ہیں اور اسکی دنیا و آخرت کی مصیبتوں کو اللہ درود و سلام کی برکت  سے دور کرتا ہے،گنا ہ معاف کردئے جاتے ہیں،اور درجات بلند کردئے جاتےہیں،جیساکہ حدیث پاک میں آیا ہیکہ: عن انس قال،قال النبیﷺ من صلیّٰ علیّ صلاۃ واحدۃ صلی اللہ علیہ عشرصلوات و حطت عنہ عشر خطیات و رفعت لہ عشر درجات۔

(رواہ النسائی،مشکاۃ المصابیح،ج/1،ص:86)،

اور سب سے بڑی سعادت مندی کی بات یہ ہیکہ امت کی جانب سے پیش کئے جانے والے درود وسلام کوخود محبوب خداﷺ سنتے ہیں،اور کیا ہی پُر کیف و سرور والا منظر ہوگاکہ ادھر سے امتی کی جانب سے دورد و سلام کی قرأت ہو اور اُدھر سے نبیﷺ کی سماعت !!جس کے بارے میں آپ خود ہی نے فرمایا: اللہ تعالی کے بہت سے فرشتے زمین پر گشت کرتے ہیں اور میری امت کا سلام میرے دربار میں پیش کرتے ہیں۔    (سنن بسائیج3،ص31)۔

غرباء و اقرباء کو کھانا کھلانا:

12 ربیع الاول ولادت با سعادت کا دن ہے اور یہ دن تو تمام مؤمنوں کیلئے ‘‘عید الاعیاد ’’ کا دن ہے،یعنی عیدوں کی عید کا دن ہےاس دن کو تو ہر امتی کو خوشی و شادمانی سے گذارنا چاہئےاوراس فرحت کی فضا کواور بھی معطر کرنے کیلئےغرباءو اقرباء کوکھانا کھلانے کا اہتمام اور بھی دوبالا کردیتا ہے اطعام طعام کی تو عام دنوں میں بھی فضیلت ہےلیکن عید میلادالنبیﷺ کے دن اسکی بہت فضیلت ہےکھانا کھلانے کے متعلق حدیث میں آیا ہیکہ:عن عبد اللہ عمرو بن العاص عن النبیﷺ قال:،من اطعم اخاہ خبزا أو سقاہ ماء حتی یرویہ بعدہ اللہ عن النار سبع خنادق بعد ما بین خندقین مسیرۃ خمسمئۃ سنۃ۔(المستدرک للحاکم،ج/4،ص/310)۔

ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا،نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جو کوئی اپنے بھائی کو پیٹ بھر کھانا کھلائے یا پانی پلائے تو اللہ اس کو جہنم کی آگ سے سات خندقوں کے فاصلہ کے برابردور کرتا ہے،اور دو خندقوں کے درمیان کا فاصلہ پانچ سو500 سال کا ہوتا ہے۔(اللہ اکبر کبیرا)۔

روشنی کا اہتمام کرنا: ولادت با سعادت کے دن تو سارے عالم میں روشنی ہی روشنی چھائے ہوئی تھی،اور اس دن روشنی کا اہتمام کرنا کوئی نا مناسب عمل نہیں ہے،بلکہ یہ تو محبوب خداﷺ کی ولادت با سعادت کے دن خوشی منانے کا ایک طریقہ ہےاور اس میں اشارہ یہ ہوتا ہے کہ جہا ں آپ کی ولادت با سعادت کی خوشی روحانی اعمال و عباداتی افعال سے منائے جاتی ہے اسی طرح اس دن کو مادی افعال سے بھی شرعی دائرہ میں رہ کر خوشی کا اظہار کیا جا سکتاہے،جیساکہ اس دن کی نورانیت کے بارے میں سیدتنا آمنہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتے ہیں کہ: فما شیئ انظر الیہ من البیت الا نور۔(المعجم الکبیر للطبرانیج25،س186)،

میں نے ولادت کے دن ہرچیزکو نور سے منور دیکھا ہے۔

جلوس عید میلاد نکالنا: شریعت مطھرہ میں عید الفطراور عید الاضحی کے دن اجتماعی شکل میں عید گاہ جاکر عبادات کا حکم دیا گیا ہے تو یوم میلادالنبیﷺ تو عید الاعیاد یعنی عیدوں کی عید ہےتو اس دن جلوس کی شکل میں نکل کر کسی مخٖصوص مقام پر  یا مسجدپہنچ کر شکرانۂ نعمت کیلئے نوافل و محافل کا انعقاد کرنا از روئے شرع صحیح و درست ہے،لیکن جلوس میں شرعی پورے قواعد کا لحاظ رکھنا چاہئے،اور نعتیہ اشعار میں موسیقی سے جتناب ضروری ہےاور غیر اخلاقی افعال سے گریز بھی ضروری ہے،کیونکہ جلوس کے روحانی منظر کو دیکھنے والوں کی زبانوں سے بے ساختہ یہ الفاظ نکل کر ذہنوں میں پیوست ہوجائیں کہ : امتی کے اخلاق کا یہ عالم ہے توپھر نبیﷺ کے اخلاق کا عالم کیا ہوگا؛

موئے مبارک کی زیارت :

اس مبارک و مسعود دن محبوب دوجہاںﷺ سے منسوب ہرچیز کا دیدار بھی عبادت سے کم نہیں ہے،بلکہ رسولوں سے نسبت رکھنے والی ہر شئی کوقرآن میں شعائراللہ (اللہ کی قدرت کی نشانیاں) کہا گیا ہے،اور ان کی تعظیم  و توقیر موجب تقویٰ ہے،جیساکہ رب ذوالجلال نے فرمایا:ومن تعظم شعائراللہ فانھا من تقوی القلوب(سورۃ الحج،آیت32)،جو اللہ کی قدرت کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو اس کے دل میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے،بیت اللہ ،صفا و مروہ،منیٰ ومزدلفہ،بیت القدس،حجر اسود وغیرہ چیزیں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں،تو ان کی تعظیم کرنے کا حکم اس لئے ہیکہ ان تمام چیزوں کی انبیائے کرام سے نسبت ہے اور اس نسبت کی عظمت کرنا عبادت ہے،تو نبی اکرمﷺ سے منسوب تمام چیزیں جیسے آپﷺ کا جبہ مبارک،عمامہ شریف،عصا مبارک اور آپ کے موئے مبارک وغیرہ کی عظمت کرنا ہرامتی پرلازم ہے،کئی احادیث شریفہ شاھد ہیں کہ جلیل القدرصحابۂ کرام نے آپ ﷺ کے موئے مبارک بطور تبرک اپنے پاس رکھ لئے تھے،اورحضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے تویہاں تک وٖصیت فرمائی کہ ان کے دفن کے وقت کفن کے ساتھ آپ کے ناک اور منہ میں آپ ﷺ کے موئے مبارک اور ناخن مبارک رکھنے کا حکم دیا تو ان آثار سے یہی بات واضح ہوتی ہیکہ آُپﷺ کے ایک ایک موئے مبارک کا احترام و اکرام لازم ہےاور ان کی بے ادبی اللہ اوررسول اللہ ﷺ کو تکلیف دینے کا سبب بنتی ہے،جیساکہ حدیث میں آیاہیکہ:سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجھہ سے روایت ہے کہا:رسول اکرمﷺ نےفرمایا جس نے میرے ایک بال کو تکلیف دی گویا اس نے مجھے تکلیف دی،اور جس نے مجھےتکلیف دی توگویا اس نے اللہ کو تکلیف دی،اس پر تمام آسمانوں اور زمین کے فرشتوں کی لعنت ہے،اور اس کی تمام فرائض اورنفل نمازیں قبول نہیں ہوں گی۔(کنزالعمال،ج2ص273)۔

جشن ولادت کے متوالوں کا انعام:
عید میلاد النبیﷺ کے دن ہرخاص وعام عقیدت مندوں پر سعادتوں کی بارش ہوتی ہے،اس دن کے دریائے فیض میں خوشی و مسرت کا اظہارکرنے والاہوتاہے،چاہےوہ مسلم ہو یا غیر مسلم جیساکہ صحیح بخاری کی حدیث کی تشریح میں شیخ الاسلام حافظ العصرابن حجر العسقلانیؒ نے امام سھیلی سے نقل کیا ہے:حضرت عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب ابو لھب مرگیا تو اس کو میں نے ایک سال بعد بُرے حال میں خواب میں دیکھا تو اس نے کہا:مرنے کے بعد میں صرف عذاب میں ہی مبتلا ہوں سوائے پیر کے دن کے اس دن عذاب میں کمی ہوتی ہے،اور وہ اس لئے کہ،نبی ﷺ کی ولادت با سعادت پیر کے دن ہوئی ہے،جب ثویبہ نے ابو لھب کو آپ کی ولادت کی خوشخبری دو تو اس نے خوشی میں اس کو آزاد کردیا۔؎

(فتح الباری،شرح البخاری،ج/20ص/95)

دوستوں : ابو لھب دشمنان اسلام میں سے تھا اس نے ولادت با سعادت کے دن خوشی کا اظہار کیا تواللہ نے اس کے اس عمل سے قبر میں تخفیف فرمادی تو انٖ غلامانان مصطفیٰ کا کیا عالم ہوگا جو اپنی پورے خلوص و محبت سےاس دن حسب استطاعت خوشیاں مناتے ہیں،اور اپنی عقیدت کا اظہارکرتےہیں،اخیر میں دعا ہیکہ اللہ ہم سب کو عید میلاد کی خوشیاں نصیب فرمائےاور عقلی وسوسوں سے ہم سب کو محفوظ فرمائے،آمین بجاہ سید المرسلین،والحمد للہ رب العالمین۔