September 24, 2022

درس جا مع الترمذی، باب :طہارت،نشست:37

 

حضرت عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا :رسول اکرمﷺ سے سوال کیا گیاکہ:حائضہ عورت کو کھانے میں شریک کرسکتے ہیں ؟یا نہیں ؟تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس عورت کو اپنے کھانے میں شامل کرلو۔۔(ج/1،ح133)ِ،

درس:قربان جائیں ! آپ کی اس انصاف پر کہ جن کے صدقہ طفیل ساری امت کی عورتوں کویہ مقام و رتبہ ملا،کہ نا پاکی حالت میں بھی اس کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کر لینے کا حکم دیا گیا ،کیونکہ اسلام سے پہلے اور آج بھی غیر مسلموں کے پاس نا پاکی کی حالت میں اس عورت کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا بھ نہیں کھا تے ہیں !!!اور کہتے پھرتے ہیں کہ : مسلمانوں کے پاس عورتوں کا کوئی مقام نہیں ہے،جب کے یہ بالکل غلط ہے۔

افسوس !!!!  آج ہمارے بعض مسلمانوں کے گھروں میں بد قسمتی سے یہ بھی ہوتاہےکہ:جب عورت ایام ممنوعہ(حیض کی حالت) میں ہوتی ہے یا اسکی ڈیلیوری ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ :‘‘گھر ناپاک اور میل ہوگیا ہے اب اس میں کسی قسم کی ذکر کی محفل نہیں کریں گے،درود کی محفل نہیں کریں گے، ؟؟؟ْ کیوں کہ گھر میلا ہے!!اور یہ اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے گھر نہیں بس کچھ دن کے لئے وہ عورت ناپا ک ہوتی ہے اور پھر بعد میں پاک ہوجاتی ہے۔

تو پیارے اسلامی بھائیوں ،،غور کرو آج ہم کدھر جا رہے ہیں،اسلامی تعلیمات پرہم عمل کر رہے ہیں ؟ یا رسم و رواج پر ؟؟؟اللہ سب کو نیک توفیق دے۔۔آمین۔